پشاور :فاٹا اسٹیل انڈسٹریل ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ 2025-26 میں فاٹا کی صنعتوں پر عائد کیے گئے 10 فیصد ٹیکس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے واجد آفریدی کی قیادت میں پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد میں حکومت سے مذاکرات کریں گے، اور اگر ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں ملک مجید، راحیل آفریدی، تنویر احمد اور شاہد اقبال نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے وقت سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے 2018 سے 2028 تک علاقے کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا، جس کی قومی اسمبلی نے بھی توثیق کی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس وعدے کو نظرانداز کرتے ہوئے فاٹا کی صنعتوں پر 10 فیصد ٹیکس نافذ کر کے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ فاٹا میں پہلے ہی صنعتیں مشکلات کا شکار ہیں اور موجودہ حالات میں صرف 20 فیصد صنعتیں باقی رہ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بی آر ٹی پشاور کے کرایوں میں اضافہ
انہوں نے کہا کہ حکومت نہ تو علاقے میں انفراسٹرکچر فراہم کر سکی ہے، نہ انڈسٹریل زونز بنائے گئے ہیں، اور نہ ہی بنیادی سہولیات میسر ہیں، ایسے میں ٹیکس عائد کرنا صنعتوں کو بند کرنے کے مترادف ہے۔
ایسوسی ایشن نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو ریلیف دیا جائے اور صنعتی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہو سکیں، ورنہ احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔





