خیبر پختونخوا میں مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کے سرکاری دعوے محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور گورنر ہاؤس نے رواں مالی سال کے دوران مختص بجٹ سے کروڑوں روپے زائد اخراجات کر کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے لیے 80 کروڑ 50 لاکھ 91 ہزار روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، تاہم اصل اخراجات 1 ارب 66 کروڑ 36 لاکھ 35 ہزار روپے تک جا پہنچے۔ اس طرح مجموعی طور پر بجٹ سے 85 کروڑ 85 لاکھ روپے زائد خرچ کیے گئے۔
نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق گورنر ہاؤس سیکرٹریٹ نے بھی کفایت شعاری کے حکومتی دعووں کو نظر انداز کرتے ہوئے 50 کروڑ 76 لاکھ 48 ہزار روپے کے مختص بجٹ کے مقابلے میں 60 کروڑ 67 لاکھ 91 ہزار روپے خرچ کر ڈالے، جو تقریباً 9 کروڑ 91 لاکھ 43 ہزار روپے اضافی بنتے ہیں۔
آنے والے مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے لیے 1 ارب 41 کروڑ 97 لاکھ 60 ہزار روپے جبکہ گورنر ہاؤس کے لیے 59 کروڑ 16 لاکھ 41 ہزار روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب صوبہ مالی مشکلات کا شکار ہے، بجٹ سے کہیں زیادہ اخراجات اور اخراجات میں سال بہ سال اضافہ حکومتی ترجیحات اور عوامی فلاح کے بیانیے پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔





