یہ دیر کے عوام سے زیادتی ہے، بجٹ میں کٹوتیوں پر ایم پی اے برہم

پشاور: لوئر دیر سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی عبیدالرحمان نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بجٹ میں دیر موٹروے اور یونیورسٹی منصوبے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں دیر موٹروے جیسے اہم منصوبے کے لیے محض 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ علاقے کی ضروریات کے برعکس نہایت ناکافی رقم ہے۔

ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی ضرورت ہے تاکہ ترقیاتی کام مؤثر انداز میں مکمل ہو سکے۔

ایم پی اے عبیدالرحمان نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ دیر میں یونیورسٹی کے قیام کو بجٹ سے مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے، جو کہ علاقے کے نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اور عوامی نمائندے کی حیثیت سے اپنے حلقے کے حق کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بجلی بحران پر سیاسی گرما گرمی، اسد قیصر اور سردار حسین بابک آمنے سامنے

عبیدالرحمان کا کہنا تھا کہ دیر جیسے پسماندہ علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے، اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔

Scroll to Top