پشاور: خیبرپختونخوا میں گرمیوں کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور خراب ٹرانسفارمرز کے مسائل کے پیش نظر صوبائی کابینہ نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز کی منظوری دے دی۔
یہ منظوری وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 34ویں اجلاس میں دی گئی، جس میں اہم حکام اور کابینہ ارکان شریک ہوئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت اگرچہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم صوبے میں عوامی مشکلات کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت اس پر فوری عمل کرے گی اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے اخراجات کی ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔
اجلاس میں متعدد دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے جن میں بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 50 ڈیزل ہائیبرڈ بسوں کی خریداری کی منظوری شامل ہے۔ اس سے قبل 244 بسیں سروس میں شامل تھیں، تاہم مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور روٹس میں اضافے کی وجہ سے مزید بسوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
کابینہ نے صوبائی حکومت اور پاک قطر ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے درمیان معاہدے کی منظوری، اور چترال و اپر کوہستان میں غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی کے استعمال سے متعلق پالیسی ترتیب دینے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کی منظوری بھی دی۔
اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2021 میں ترمیم منظور کی گئی، جس کے تحت بڈنگ کی مدت 60 دن سے کم کرکے 30 دن کر دی گئی۔
ایرا کنٹریکٹ ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے نان اے ڈی پی اسکیم، اور بالاکوٹ مانسہرہ میں کٹیگری ڈی ہسپتال کی تعمیر کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید طبی آلات کی خریداری کے لیے 346 ملین روپے کی گرانٹ، جبکہ بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں سہولیات کی بہتری کے لیے نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری بھی اجلاس کا حصہ رہی۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے مشروط گرانٹ، خیبرپختونخوا این جی اوز رولز 2024 میں ضروری ترامیم، اور ضلع خیبر و مہمند میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : صوابی: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید
اجلاس میں خیبرپختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے بجٹ برائے مالی سال 2024-25 کی منظوری بھی دی گئی، جو صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز کے باوجود ترقیاتی ایجنڈا آگے بڑھایا جائے گا۔





