خیبرپختونخوا حکومت کا نیا فیصلہ ،کے پی میں 2 فیصد انفراسٹرکچر سیس دوبارہ نافذ، تاجروں پر نیا مالی بوجھ

خیبرپختونخوا حکومت کا نیا فیصلہ ،کے پی میں 2 فیصد انفراسٹرکچر سیس دوبارہ نافذ، تاجروں پر نیا مالی بوجھ

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں کاروباری برادری پر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDS) دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب صوبے میں گڈز کی ترسیل پر 2 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کے پی آر اے) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ سیس صوبے کے تمام بڑے داخلی اور خارجی راستوں، بشمول باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پر وصول کیا جائے گا۔ اس ٹیکس کا مقصد صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور سڑکوں و ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (آج نیوز) کے مطابق سیس کا اطلاق فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے، اور تمام تاجر و ٹرانسپورٹرز کو اس کے تحت محصولات ادا کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی خیبرپختونخوا حکومت نے یہی سیس نافذ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم تاجر برادری کی جانب سے شدید احتجاج اور مخالفت کے باعث حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔ اب ایک بار پھر اس ٹیکس کے نفاذ سے تاجروں میں بے چینی کی لہر دیکھی جا رہی ہے، اور ممکنہ ردعمل کا سامنا حکومت کو ہو سکتا ہے۔

صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے انفراسٹرکچر کی بہتری اور معیاری سروسز کی فراہمی ممکن ہوگی، تاہم تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ کے اس دور میں اضافی ٹیکسز کاروباری طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔

Scroll to Top