رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پشاور ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کی قیادت اور خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شیر افضل مروت نے کہا کہ ’’جس قیادت کو اپنے ہی کارکن گالیاں دے رہے ہوں، اس کے پیچھے کون نکلے گا؟ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔’’ انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو بانی پی ٹی آئی کی رضامندی سے مشروط کرنا ایک خودساختہ فیصلہ تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ کا ڈرافٹ سلمان اکرم راجہ نے تیار کیا اور پولیٹیکل کمیٹی میں باہمی رضامندی سے منظور ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب اور سندھ میں بجٹ بآسانی منظور ہو گیا، لیکن خیبرپختونخوا میں ایسا نہ ہو سکا، جو کہ انتظامی کمزوری کا عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کھلے عام سوشل میڈیا پر ٹرول ہو رہا ہے، یہ ہماری کمزوری کی علامت ہے۔‘‘
شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی میڈیا حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا، جو کبھی پارٹی کی طاقت تھا، اب الٹا نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے یوٹیوبرز کے چینلز بند کیے جانے کے حوالے سے اپنے پچھلے خدشات کا اعادہ بھی کیا۔
اپنے حلقے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز دیے گئے ہیں، تاہم ان کا اپنا حلقہ تاحال ترقیاتی کاموں سے محروم ہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ ’’اگر یہی رویہ برقرار رہا تو میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے وفاقی حکومت سے مدد مانگنے پر مجبور ہوں گا۔‘‘
شیر افضل مروت کے ان بیانات کو پارٹی کے اندرونی اختلافات کی ایک اور جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔





