وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی پیشکش پر پی ٹی آئی نے محتاط مگر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر پارٹی سطح پر مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی مؤقف اپنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں بیرسٹر گوہر علی خان اور اسد قیصر سے غیر رسمی ملاقات کے دوران مذاکرات کی پیشکش کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’’مل بیٹھ کر بات چیت ہی ملک کو موجودہ سیاسی کشیدگی سے نکال سکتی ہے‘‘۔ اس پر بیرسٹر گوہر نے مختصر مگر پرامید انداز میں ’’ان شاء اللہ‘‘کہہ کر جواب دیا۔
جی ٹی وی چینل (سماء نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی بات اچانک سامنے آئی ہے، اس لیے فوری ردعمل دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس پیشکش کا بغور جائزہ لے گی اور مشاورت کے بعد مؤقف واضح کرے گی۔
دوسری جانب، اسد قیصر نے وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیان کو غیرسنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور دوسری جانب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘
انہوں نے علیمہ خان کے حوالے سے کہا کہ وہ سیاستدان نہیں، بلکہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں، اور بہنوں کا دل نازک ہوتا ہے، اس لیے وہ معاملات کو ایک جذباتی زاویے سے دیکھتی ہیں۔
اسد قیصر نے پارٹی میں دراڑوں سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانیہ مخالفین کی اختراع ہے، تاکہ پی ٹی آئی کی قوت کو کمزوری میں بدلا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے اس محتاط ردعمل کے بعد سیاسی حلقے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا دونوں فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی یا نہیں۔





