ویزہ کے خواہشمند پاکستانی طلبا کیلئے نئی مشکل، امریکا نے پرائیویسی سیٹنگز بھی مانگ لیں

ویزہ کے خواہشمند پاکستانی طلبا کیلئے نئی مشکل، امریکا نے پرائیویسی سیٹنگز بھی مانگ لیں

امریکی ویزہ شرائط مزید سخت، پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ’’پبلک‘‘کرنا لازمی قرار

تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کرتے ہوئے اسٹوڈنٹ (ایم ایف) اور تبادلہ پروگرام (جے) کیٹیگریز میں ویزہ کے خواہشمند افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز کو ’’پبلک‘‘ پر سیٹ کریں، تاکہ امریکی حکام ان کی شناخت اور سکیورٹی کلیئرنس کی مؤثر جانچ کر سکیں۔

یہ ہدایات امریکی قونصل خانوں کراچی اور لاہور کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری کی گئیں اور دہلی میں امریکی سفارتخانے کی حالیہ پالیسی کا تسلسل ہیں۔ حکام کے مطابق، اب ویزہ درخواست دہندگان کی آن لائن موجودگی امریکی امیگریشن کے جائزے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’’تمام ایم ایف یاجے کیٹیگری کے ویزوں کے درخواست دہندگان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو عوامی کر دیں تاکہ ان کی امریکا میں داخلے کے لیے اہلیت کی تصدیق کی جا سکے۔‘‘

یاد رہے کہ امریکا 2019 سے ویزہ درخواست دہندگان سے ان کے سوشل میڈیا ہینڈلز طلب کرتا رہا ہے، تاہم اب اس شرط کو مزید سختی سے لاگو کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار سوشل میڈیا معلومات فراہم نہ کرے یا غلط معلومات دے، تو اس کا ویزہ مسترد کیا جا سکتا ہے اور وہ مستقبل میں بھی نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایف اورایم ویزے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لیے مختص ہوتے ہیں، جب کہ جے ویزا بین الاقوامی تبادلہ پروگرامز میں شامل افراد کو جاری کیا جاتا ہے۔

یہ اقدام سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ویزہ نظام کو مزید سخت بنایا گیا اور سکیورٹی اسکریننگ کو بڑھایا گیا۔ ماہرین کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد غیر ملکیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کے ذریعے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنا ہے۔

Scroll to Top