ٹرمپ نے شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے

واشنگٹن: امریکا نے شام پر عائد طویل المدتی اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پابندیاں ہٹانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے، جس کے بعد 2004 سے شامی حکومت پر عائد مالیاتی قدغنیں ختم ہو گئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق ان پابندیوں کے تحت شامی حکومت کی جائیدادیں منجمد کی گئی تھیں، جنہیں اب بحال کیا جا رہا ہے۔ تاہم سابق شامی صدر بشارالاسد، شدت پسند تنظیم داعش اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن شام کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کے فیصلے پر بھی نظرثانی کر رہا ہے، اور اس پیش رفت کے بعد شام کی عالمی مالیاتی تنہائی ختم ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے شام کے لیے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔

شامی وزیر خارجہ نے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے شام عالمی برادری کے لیے دوبارہ کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تعمیرِ نو، ترقی اور معاشی بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : پانی کا بہاؤ بڑھنے سے تربیلا ڈیم کی بجلی پیداوار 2613 میگاواٹ پر پہنچ گئی

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں شام کے عبوری صدر احمد الشرع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب میں ملاقات ہوئی تھی، جو 25 سال بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ تھا۔ اسی ملاقات کے بعد ٹرمپ نے شام پر سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

Scroll to Top