وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ گڈ گورننس روڈ میپ گزشتہ 15 مہینوں کے دوران صوبے میں مختلف شعبوں میں گورننس کی صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
گڈ گورننس روڈ میپ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ روڈ میپ گورننس، ڈیویلپمنٹ اور سکیورٹی کے شعبوں میں صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کی تیاری پر چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ روڈ میپ محکموں اور اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران کی کارکردگی کو جانچنے کا پیمانہ ہوگا اور اس کے تحت سزا و جزا کا نظام وضع کیا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افسران کی ترقی اور پوسٹنگ ٹرانسفرز ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گے اور اس روڈ میپ کے ذریعے صوبے میں سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے علاوہ نظام میں شفافیت اور میرٹ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس روڈ میپ پر عملدرآمد سے صوبے میں گورننس کو خاطر خواہ حد تک بہتر بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود ہوتی ہے اور کوشش ہے کہ سروس ڈیلیوری کو عوامی ضروریات اور توقعات کے مطابق بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ ہمارے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور یہ گورننس کا روڈ میپ ہے جس میں سروس ڈیلیوری، سکیورٹی اور ترقی سب شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گورننس کو بہتر بنانے کے لیے سزا اور جزا کے نظام کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ روڈ میپ بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے اور شرکاء سے درخواست کی کہ وہ تجاویز دیں تاکہ اسے مزید بہتر بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کی سینیٹ نشستوں پر انتخابات کا شیڈول جاری
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران صوبے کے پوٹینشل شعبوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے کام کیا گیا ہے اور گورننس، سکیورٹی سمیت تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔





