وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و پارلیمانی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک کے سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر احتجاج یا سوشل میڈیا پر گالم گلوچ سے نہیں پارلیمنٹ کے اندر سے نکلے گا، تمام سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمہ کریں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ 2018 کے انتخابات پر اعتراضات کے باوجود اس وقت قانون سازی نہیں کی گئی، شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو مکمل اختیارات دینا ناگزیر ہے اور اگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں تو جوابدہی بھی وہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات کے بجائے مہم اور الزامات کا رویہ اپنایا جاتا ہے یہ 1818 نہیں، 2018 کا الیکشن ہے حقائق تسلیم کرنا ہوں گے۔
مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی نکات واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد امیدوار جماعت میں شمولیت کے بغیر مخصوص نشستوں کے اہل نہیں، قانون کی غلط فہمی پر شور مچانے سے آئین نہیں بدلتا۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ گالی گلوچ کا کلچر پارٹی قیادت کے گلے پڑ چکا ہے اب خود ان کے سنجیدہ رہنما بھی لب کشائی سے گھبراتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش ہوسکتی ہے، خواجہ آصف
رانا ثنااللہ نے 190 بلین کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ واضح ہے اگر غلطی ہوئی ہے تو مان لینا ہی اصل قیادت کا ظرف ہوتا ہے۔





