علی امین گنڈاپور: امیر مقام کے ہوٹل کی تجاوزات قانون کے مطابق ہٹائی جائیں گی، سیاسی انتقام نہیں لیا جائے گا ،طارق وحید

پشاور :خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک انٹرویو میں مختلف قومی اور صوبائی امور پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے کئی اہم دعوے اور چیلنجز پیش کیے ہیں۔

سینئر صحافی طارق وحید سے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر تمام سرکاری افسران کے گھروں کی تلاشی لی جائے تو ہر گھر میں سرکاری فرنیچر برآمد ہوگا، اور اگر کسی ایک گھر سے بھی ایسا سامان نہ نکلا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔

انہوں نے افغان شہریوں کو شہریت دینے کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ خود پاکستان سے رجوع کر رہے ہیں تو انہیں شہریت کیوں نہیں دی جا رہی؟ علی امین کے مطابق یہ افغان شہری بااعتماد اور کاروباری ذہن کے حامل افراد ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وہ وفاقی حکومت کو متعدد بار خطوط لکھ چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے 11 کروڑ روپے بسکٹوں پر خرچ ہونے کے دعوے کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اس حوالے سے اصل حقائق کچھ اور ہیں، جو میڈیا پر غلط انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی میدان میں تحریک انصاف کے خلاف ممکنہ تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی مضبوط پوزیشن میں ہے، تمام ارکان پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، اور اگر اپوزیشن عدم اعتماد لانا چاہتی ہے تو اپنا شوق پورا کر لے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی وزیر امیر مقام نے شانگلہ پورن میں نادرا مرکز کا افتتاح کر دیا

اپوزیشن رہنما امیر مقام سے متعلق گفتگو میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ سیاسی انتقام نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اُس نے میری حکومت گرانے کی بات کی ہے، لیکن میں جواباً اس کا ہوٹل نہیں گراؤں گا۔ البتہ اگر کوئی حصہ تجاوزات میں آتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

سوات واقعے پر علی امین گنڈاپور نے کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے متاثرہ خاندان کے لیے 2 کروڑ روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔

Scroll to Top