اسلام آباد: سابق صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمور سلیم جھگڑا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے متعدد اہم اور بنیادی نکات اٹھا دیے ہیں۔
اپنی ہی حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے تیمور جھگڑا نے احتساب، بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اپنی ٹیم چننے کا اختیار ہے، لیکن سیاسی جماعت کے اندرونی افراد پر مشتمل صوبائی احتساب کمیٹی کا قیام غیر مناسب تھا۔ ان کے مطابق احتساب ضرور ہونا چاہیے، مگر ایسی شفاف اور غیرجانبدارانہ کمیٹی کے ذریعے جو پارٹی وابستگی سے پاک ہو۔
تیمور جھگڑا نے پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں انکشاف کیا کہ جن افسران پر مبینہ دھاندلی کے الزامات تھے، انہی کو پی ٹی آئی حکومت میں ترقی دی گئی اور آج تک ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں کی گئی۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود خیبرپختونخوا میں الیکشن انکوائری کا عمل کیوں شروع نہیں ہو سکا، جب کہ پنجاب میں 26 ایم پی ایز کے خلاف نااہلی ریفرنس دائر کیے گئے، مگر 514 دن گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بیوروکریسی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ بیوروکریسی کے ذریعے خرچ کیا جاتا ہے، اور بیوروکریٹس اکثر وزیراعلیٰ سے اپنے اضلاع کے لیے فنڈز دلوا کر باقی اختیارات اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایم ٹی آئی سسٹم نے علاج کو کاروبار میں بدل دیا، خیبرپختونخوا میں سرجری تک ممکن نہیں ،ڈاکٹر فیضان
ایم ٹی آئی نظام سے متعلق انہوں نے اسے ایک اچھا ماڈل قرار دیا، لیکن خبردار کیا کہ اگر ایم ٹی آئی سمجھتا ہے کہ وہ حکومت کو جوابدہ نہیں، تو یہ رویہ غلط ہے۔
نیب انکوائری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سخت حالات میں نیب میں پیش ہوئے تاکہ کرپشن کے الزامات کا مردانہ وار سامنا کر سکیں، اور یہ ثابت ہو کہ وہ جوابدہی سے نہیں بھاگتے۔
آخر میں انہوں نے انکشاف کیا کہ مالی سال 2018-19 میں چارسدہ میڈیکل کالج کے لیے صرف 1000 روپے فنڈ رکھے گئے تھے، جو واضح کرتا ہے کہ کالج کیوں نہ بن سکا۔





