سانحہ سوات کے بعد مالاکنڈ ڈویژن میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کر دی گئی ہے، جس میں مجموعی طور پر 700 سے زائد کنال سرکاری اراضی پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹی وی (جیو نیوز) کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے 6 اضلاع میں 501 کنال جبکہ صرف سوات میں 203 کنال زمین پر غیر قانونی تجاوزات قائم تھیں۔
متاثرہ اضلاع اور کارروائیاں
رپورٹ کے مطابق باجوڑ، بونیر، دیر (لوئر و اپر) اور ضلع مالاکنڈ سمیت ڈویژن بھر میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا۔
سوات: 203 کنال زمین پر تجاوزات، 78 کنال سے تجاوزات ختم، 8 کلومیٹر سے زائد رقبے کی حد بندی۔
مالاکنڈ کے دیگر اضلاع: 501 کنال زمین پر قبضے کا انکشاف، جن میں سے 162 کنال پر سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔
آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 61 عمارتوں کو سیل کیا گیا، جبکہ 75 کنال سے زائد رقبے پر قائم غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
سوات: 1 عمارت سیل، 20 کنال رقبے پر عمارتیں گرائی گئیں۔
باجوڑ: 15 عمارتیں سیل
بونیر: 9
لوئر دیر: 22
اپر دیر: 10
ضلع مالاکنڈ: 4 عمارتیں سیل
حدبندی اور سیکیورٹی اقدامات
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں 115 کلومیٹر سے زائد رقبے کی حد بندی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ 54 حساس مقامات پر باڑ لگا دی گئی ہے تاکہ دوبارہ تجاوزات نہ ہو سکیں۔
حکومتی مؤقف
اس حوالے سے کمشنر مالاکنڈ ڈویژن عابد وزیر نےنجی ٹی وی چینل( جیو نیوز) سے گفتگو میں کہا کہ ’’تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سخت ہدایات ہیں کہ کسی کو رعایت نہ دی جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور جہاں بھی غیر قانونی تعمیرات نظر آئیں، فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





