واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کے لیے نامزد کرنے کا خط پیش کیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے نوبیل کمیٹی کو خط لکھ کر سفارش کی ہے کہ صدر ٹرمپ کو عالمی امن کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر نوبیل انعام دیا جائے۔
ان کے مطابق ٹرمپ کی قیادت میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھلی ہیں اور وہ امریکا کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے لیے بہتر مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت سمیت کئی عالمی تنازعات میں جنگ کو روکا۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے اور مزید حملوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
فلسطین کے دو ریاستی حل پر سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں حتمی رائے نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کی نوبیل امن انعام نامزدگی پر امریکہ کا ردعمل سامنے آ گیا
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومتِ پاکستان بھی پاک بھارت کشیدگی میں صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کر چکی ہے۔
پاکستان کی جانب سے سفارش کا خط نوبیل کمیٹی کو ارسال کیا جا چکا ہے، جبکہ ریپبلکن رکن کانگریس نے بھی ٹرمپ کو اسرائیل-ایران تنازع میں مداخلت کے اعتراف میں نامزد کیا ہے۔





