واشنگٹن :امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ اس وقت امریکہ کی پوری توجہ غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں جاری پیش رفت سے پُرامید ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران کو معمول کے ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں سیاسی نظم و نسق کے قیام کے حوالے سے کئی ممالک سے بات چیت جاری ہے، تاہم امریکی سینیٹر روبیو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حماس کو مستقبل کے کسی سیاسی ڈھانچے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق، امریکہ کی توجہ صرف غزہ تک محدود نہیں، بلکہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن معاہدے کی کوششیںبھی جاری ہیں۔ امریکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کے لیے نامزد کر دیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک شخص نے خود کو امریکی وزیر خارجہ ظاہر کر کے مختلف سفارتی بات چیت میں شرکت کی کوشش کی، جس پر اب باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔





