امریکا واقعی پُرامن حل چاہتا ہے تو برابری کی بنیاد پر معاہدہ کرے، ایرانی وزیر خارجہ

تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حالیہ جنگ نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر دیا ہے، اور ایران کو امریکا سے موصول ہونے والے مذاکراتی پیغامات پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

برطانوی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عباس عراقچی نے تحریر کیا کہ مذاکرات کے دوران اسرائیلی حملوں نے ثابت کیا کہ اسرائیل امن سے زیادہ تصادم کا خواہاں ہے، اور امریکا نے بھی ایران پر حملے کر کے بین الاقوامی قانون اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کو امریکا کی طرف سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم اُن کے بقول ہم اب امریکا پر کیسے اعتماد کریں؟اس کے باوجود ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی سفارت کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا واقعی مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے تو اسے برابری کی سطح پر معاہدہ ممکن بنانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ میں جنگ بندی ہماری اولین ترجیح ہے، امریکا

دوسری جانب منگل کے روز عباس عراقچی نے مکہ مکرمہ میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورتِ حال اور باہمی تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

Scroll to Top