اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی نے کہا ہے کہ پارٹی کارکنان کا واضح مؤقف ہے کہ اگر چیئرمین عمران خان کو رہا نہ کیا گیا تو وہ زبردستی رہا کروائیں گے۔ہزاروں افراد کو سڑکوں پر لا کر حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے داور کنڈی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت نے ایسا سلوک کیا ہے جو شاید مارشل لا دور میں بھی نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو خوش ہونا چاہیے کہ پی ٹی آئی نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم ان کی شخصیت کا احترام کرتے ہیں، لیکن ان کی پالیسیوں سے مکمل اختلاف رکھتے ہیں۔
مولانا نے پختون بیلٹ سے پی ٹی آئی کے اثرات تقریباً ختم کر دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مولانا گرینڈ الائنس میں شامل ہونا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ماحولیاتی بحران کی واضح علامت ہے، سابق چیف میٹرولوجسٹ
فاٹا انضمام سے متعلق داور کنڈی کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام اپنی شناخت اور طرز زندگی میں دیگر پشتونوں سے مختلف ہیں۔ وہ ایک علیحدہ صوبے یا خصوصی حیثیت کے خواہاں تھے، لیکن انضمام آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا۔
ان کے مطابق آج بھی انضمام کے وقت کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ فاٹا میں جرگہ سسٹم کی طرز پر ایک بڑا قبائلی جرگہ بلایا جائے، جس میں تمام مقامی نمائندے اور اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں تاکہ قابل قبول اور پائیدار حل نکل سکے۔





