پشاور: سابق چیف میٹرولوجسٹ مشتاق علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دے رہا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کیا۔
مشتاق علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 100 سال کی اوسط کے مقابلے میں درجہ حرارت میں 0.6 ڈگری کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ 30 سالوں میں یہ اضافہ 1 ڈگری سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال ماحولیات میں غیر معمولی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے، جن میں بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، اور زیر زمین پانی کی سطح میں کمی شامل ہے۔
انہوں نے گلیشیئرز کو ملک کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مکمل خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو جائے تو یہی گلیشیئرز ہمیں آئندہ 30 سال تک پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، زیرِ زمین پانی کی سطح 2020 کے بعد مسلسل نیچے جا رہی ہے، جو ایک خطرناک علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جب تک مسئلے کی جڑ ختم نہیں ہوتی، پاراچنار میں پائیدار امن ممکن نہیں، طارق وحید
ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافہ صرف ماحولیاتی نظام تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دمے کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ذیابیطس جیسے امراض میں بھی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا کردار ہو سکتا ہے۔





