(وحید اللہ )مولانا خان زیب باجوڑ کی تحصیل ناواگئی میں پیدا ہوئے،انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول ناواگئی سے حاصل کی۔
میٹرک کے بعد انہوں نے دنیاوی تعلیم کو خیرباد کہہ کر دینی تعلیم کا آغاز کیا جس کے بعد وہ سیاست میں سرگرم ہو گئے۔
مولانا خان زیب باجوڑ میں آباد ترکلانی قبیلہ کی ذیلی شاخ سالارزئی شیخان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد زمانہ قدیم سے چارمنگ اور ناواگئی میں رہائش پذیر رہے ہیں جبکہ پشاور میں متھرا کے قریب ڈھائی سو گھرانوں پر مشتمل ان کی برادری کا ایک پورا گاؤں شیخ کلی کے نام سے موجود ہے۔
مولانا خان زیب ایک عالم دین کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سیاسی رہنماء بھی تھے،مولانا خانزیب خیبر پختونخوا اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں جاری دہشتگردی پر ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتا رہا۔
مولانا خان زیب عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابقہ امیدوار شیخ جہانزادہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ گزشتہ انتخابات میں مولانا خانزیب نےعوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 8 باجوڑ سے الیکشن لڑا اور 12069 ووٹ حاصل کئے۔
مولانا خان زیب باجوڑ اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں بے حد مقبول تھے اور سوشل میڈیا کے زریعے نوجوانوں کے سیاسی اور روہانی تربیت بھی کرتے تھے۔آپریشن شیردل کے دوران مولانا خان زیب کے گھر پر گولہ باری ہوئی، جس سے ان کے گھر کی تین خواتین زخمی ہوئیں۔ خوف و ہراس کے اس عالم میں بھی وہ اپنے علاقے سے نقل مکانی پر تیار نہ ہوئے۔
عسکریت پسندی کے دور میں مولانا خان زیب نے ناوگئی کے معروف شاعر اسلام آرمانی کا جنازہ پڑھایا، جس پر شدت پسندوں کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس اقدام کے بعد انہیں سنگین خطرات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بارے میں مولانا خانزیب نے لکھا کہ: “مجھے اندازہ تھا کہ اس جنازے کی امامت کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں لیکن اپنے عقیدے اور پشتون روایات کی پاسداری کرتے ہوئے میں نے اسلام آرمانی کا جنازہ پڑھایا”۔
صحافی بلال یاسر لکھتے ہیں کہ مولانا خان زیب کے گھر پر شدت پسندوں کی جانب سے دو بار بڑے تباہ کن میزائل داغے گئے جن میں سے ایک واقعہ کے بارے میں مولانا نے ایک تقریر میں بتایا تھا کہ میزائل مجھ سے دس فٹ اوپر درخت پر لگ کر پھٹ گیا اور ایک ہفتے تک میرے کان بند تھے۔
آخر تک مولانا خان زیب اور ان کے گھر والوں کو بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑامگر ان تمام تر مشکلات کے باوجود وہ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن کا ایک بھی رکن حکومتی ارکان سے زیادہ ہوا تو تحریکِ عدم اعتماد لانا ہمارا آئینی حق ہوگا،فیصل کریم کنڈی
مولانا خان زیب 13 جولائی کو منعقد ہونے والے امن پاسون کے کمپین میں مصروف تھے کہ شنڈئی موڑ کے مقام پر نامعلوم حملہ آوروں نے اچانک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں مولانا خان زیب اور ایک ساتھی موقع پر شہید ہو گئے جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوئے۔امن کی ایک اور توانا آواز خاموش ہوگئی۔





