اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 230 رہنماؤں اور کارکنان کی عبوری ضمانت میں 8 ستمبر 2025 تک توسیع کر دی ہے۔ یہ ضمانتیں 26 نومبر اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاج سے متعلق درج 19 مقدمات میں دی گئی ہیں۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق سماعت انسدادِ دہشت گردی کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت بشمول بیرسٹر گوہر خان، بشریٰ بی بی، سلمان اکرم راجہ، عمر ایوب، شبلی فراز و دیگر کی ضمانت میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
عدالت میں بیرسٹر گوہر خان، زرتاج گل، عمیر نیازی اور لطیف کھوسہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے جبکہ متعدد رہنماؤں کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں بھی منظور کر لی گئیں۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں ریاست علی، علی بخاری اور دیگر وکلاء نے دلائل دیے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تھانہ مارگلہ، رمنا، کوہسار سمیت اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں مجموعی طور پر 19 مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات پرتشدد احتجاج، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے جیسے الزامات پر مبنی ہیں۔
عدالت نے تمام رہنماؤں کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت کا تحفظ قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ہوگا۔ عدالت کی جانب سے کیس کی مزید سماعت کے لیے 8 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔





