اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نرمی برتی گئی ہے، اگر یہی کچھ پیپلز پارٹی یا ن لیگ کرتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ ریاست کی کسی بھی تنصیب پر حملہ کرنے کا کوئی جواز نہیں اور ایسے مقدمات کے ٹرائل جلد مکمل ہونے چاہئیں تھے، خاص طور پر 9 مئی کیسز کے فیصلے دو سے تین ماہ کے اندر ہونے چاہیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کے خلاف نہیں جانا چاہیے اور پی ٹی آئی کی ناکام کوششوں کا جواب سختی سے دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : چارسدہ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف تاجروں کا احتجاج، ’بجلی دو یا بجلی کاٹو‘ مہم کا اعلان
بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے اتفاق نہیں کرتے اور علیحدہ کورٹ بنانے کی حمایت کرتے تھے، جو کہ بینچز بنانے کی بجائے بہتر حل تھا۔
انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی جانب سے اتحاد کی پیشکش کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر ملکی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔





