سانحہ سوات کے بعد کے پی حکومت کی سخت کارروائی، دریاؤں کے کنارے تجاوزات کیخلاف آپریشن

سانحہ سوات :انکوائری رپورٹ میں ٹورازم پولیس کی غفلت اور کوتاہیوں کا انکشاف

سوات میں پیش آنے والے حالیہ سانحے کی انکوائری رپورٹ میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سیاحتی مقامات پر تعینات کی گئی ٹورازم پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

انکوائری رپورٹ انکشاف ہوا ہےکہ 27 جون کو واقعے کے روز نہ صرف فضاگٹ اور اس کے اطراف میں ٹورازم پولیس مکمل طور پر غائب رہی بلکہ وہاں سیاحوں کی رہنمائی کے لیے کوئی استقبالیہ کیمپ بھی موجود نہیں تھا۔

انکوائری کمیٹی نے نشاندہی کی ہے کہ سانحے کی صبح جائے وقوعہ کے قریب ایک پولیس موبائل موجود تھی تاہم دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود پولیس نے سیاحوں کو دریا کے کنارے جانے سے نہیں روکا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دن ٹورازم پولیس جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھی جو کہ ایک سنجیدہ غفلت ہے۔

کمیٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ سیاحتی مقامات پر تعینات اس فورس کا اصل کردار اور افادیت کیا ہے جب وہ ایسے نازک مواقع پر نظر ہی نہیں آتی۔

رپورٹ کے مطابق دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 106 مقدمات درج کیے گئے جن میں سے صرف 14 ایف آئی آرز پولیس نے جبکہ باقی اسسٹنٹ کمشنرز نے درج کیں۔

پولیس کی جانب سے ہوٹل مالکان کو سیاحوں کی حفاظت سے متعلق کسی قسم کی ہدایات جاری کرنے کا کوئی تحریری یا عملی ثبوت بھی پیش نہیں کیا جا سکا۔

انکوائری رپورٹ میں سوات پولیس کی غفلت اور دفعہ 144 کے ناقص نفاذ پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور متعلقہ افسران کے خلاف 60 دن کے اندر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر سیاحتی علاقوں کے لیے نئے ضابطے اور قانونی فریم ورک تیار کیے جائیں، دریا کے کنارے قائم عمارتوں اور مقامات کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز نافذ کیے جائیں، اور موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں اگلی حکومت ن لیگ کی ہوگی، وفاقی وزیر رانا تنویر

انکوائری کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ پولیس کو دفعہ 144 کے نفاذ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ہدایت دی جائے، حساس علاقوں میں پولیس کی واضح موجودگی یقینی بنائی جائے، وارننگ سائن بورڈز نصب کیے جائیں اور ٹورازم پولیس و ضلعی پولیس کے درمیان ایک نیا مربوط نظام قائم کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

Scroll to Top