احتجاج یا مارچ؟ پی ٹی آئی قیادت 31 جولائی کو پشاور میں سر جوڑ کر بیٹھے گی

احتجاج یا مارچ؟ پی ٹی آئی قیادت 31 جولائی کو پشاور میں سر جوڑ کر بیٹھے گی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئندہ احتجاجی حکمت عملی طے کرنے کے لیے 31 جولائی کو پشاور میں اہم مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت شریک ہو گی۔ اجلاس میں اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ یا صوبائی سطح پر احتجاج جیسے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کے مطابق یہ اجلاس چیئرمین پی ٹی آئی، سیکرٹری جنرل، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور دیگر مرکزی قائدین کی زیر صدارت ہوگا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ملک کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں آئندہ احتجاجی لائحہ عمل کو حتمی شکل دینا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت مختلف آپشنز پر غور کرے گی، جن میں ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کا امکان بھی شامل ہے۔ تاہم بعض رہنما اس خیال کے خلاف ہیں اور ان کی رائے ہے کہ احتجاج صوبائی سطح پر محدود رکھا جائے تاکہ کارکنوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔

اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ “احتجاج سے متعلق تمام امور 31 جولائی کے اجلاس میں فائنل کیے جائیں گے، اور حکمت عملی طے کرنے کے بعد عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔”

پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اہم اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

Scroll to Top