خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کے حوالے سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللّٰہ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد صوبے میں براہِ راست انتخاب کی صورتحال واضح ہو گئی ہے۔
قومی اخبار(روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپوزیشن لیڈر سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، جس میں کوشش کی گئی کہ سینیٹ کی نشست پر بلامقابلہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم، اس پر دونوں رہنما کسی متفقہ فیصلے تک نہ پہنچ سکے۔
ملاقات کے دوران علی امین گنڈاپور نے اپوزیشن لیڈر سے درخواست کی کہ وہ اپنے امیدوار کو دستبردار کرا دیں تاکہ سینیٹ انتخاب میں اتفاق رائے سے امیدوار منتخب کیا جا سکے۔ تاہم، ڈاکٹر عباد اللّٰہ نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اپوزیشن جمہوری عمل کے تحت بھرپور مقابلہ کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے نامزد امیدواروں کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہوگا، اور بلامقابلہ انتخاب کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ سینیٹ نشست پاکستان تحریک انصاف کی ثانیہ نشتر کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، اور اب اس پر ضمنی انتخاب کا عمل جاری ہے۔
انتخابی عمل کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جبکہ سیاسی حلقوں کی نظریں اب اس سخت مقابلے پر مرکوز ہو چکی ہیں۔





