وزیراعلی علی امین گنڈا پورا کا محسود،وزیر،داوڑ،بیٹنی اور سلیمان خیل قبائل کے ساتھ جرگہ

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے علاقائی جرگوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے کا تیسرا مشاورتی جرگہ آج وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس میں قبائلی مشران، عوامی نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جرگے میں ضلع شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، ٹرائبل سب ڈویژنز وزیر، بیٹنی، درازندہ اور جنڈولہ کے قبائلی عمائدین شریک ہوئے۔

علاوہ ازیں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے، متعلقہ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین، وزیر اعلیٰ کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران بھی جرگے کا حصہ بنے۔

جرگے کے دوران شرکاء نے امن و امان کے قیام کے لیے وزیر اعلیٰ کی جانب سے مشاورتی عمل کے آغاز کو سراہا اور ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

عمائدین کا کہنا تھا کہ امن اس خطے کی بنیادی ضرورت ہے اور قبائل دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے ساتھ مؤثر مذاکرات کے لیے ایک جامع جرگہ تشکیل دیا جائے جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے، قبائلی مشران اور سیاسی قائدین شامل ہوں تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

قبائلی رہنماؤں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ترقی چاہتے ہیں اور اس ترقی کا براہ راست تعلق امن و امان سے ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ امن کے قیام کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ علاقے میں خوشحالی کا دور شروع ہو۔

Scroll to Top