اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کا پاکستان نہ آنا غیر متوقع بات نہیں، وہ پہلے بھی اہم مواقع پر پاکستان نہیں آئے، اور موجودہ سیاسی حالات میں ان کا نہ آنا ایک بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے۔
رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی چار سال ملک کے وزیراعظم رہے، لیکن ان کے بچے اُس وقت بھی پاکستان نہیں آئے، یہاں تک کہ وہ اپنے والد کی تقریبِ حلف برداری میں بھی شریک نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اب پاکستان آنے کے لیے ویزہ مانگیں گے تو حکومت انہیں ویزہ جاری کر دے گی۔
مزید گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان حالیہ ملاقات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
ان کے بقول بلاول صرف تعزیت کے لیے آئے تھے۔ جب سیاستدان مل بیٹھتے ہیں تو عمومی گفتگو بھی ہو جاتی ہے، لیکن اسے سیاسی جوڑ توڑ نہ سمجھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : اسکولوں کی چھٹیوں میں توسیع کیوں ہوئی؟ صوبائی وزیرِ تعلیم نے اہم وجہ بتا دی
انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت سیاسی بصیرت رکھتی ہے اور اپنے فیصلوں پر مطمئن ہے۔
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ آنے والے دو سے تین سال میں حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے گی۔





