رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سینئر رہنما علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹ ہیں، ہر جگہ دندناتی پھرتی ہیں اور آج تک کبھی گرفتار نہیں ہوئیں۔
تفصیلات کے مطابق شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ علیمہ خان نے آج ان کے خلاف گالم گلوچ کی اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ قرار دیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
نجی ٹی وی چینل (آج نیوز)سے گفتگو کرتے ہوئےعلیمہ خان پارٹی میں کس حیثیت سے بات کر رہی ہیں؟ وہ فتوے بانٹ رہی ہیں، گالم گلوچ کر رہی ہیں، میرا دل اتنا بڑا نہیں کہ سب کچھ درگزر کر دوں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ گالم گلوچ کا کسی کو حق نہیں، اور اگر کوئی بیان دیتا ہے اور پھر واپس بھی لیتا ہے تو بھی اس پر جواب دینا بنتا ہے۔
انہوں نے علیمہ خان پر الزام لگایا کہ انہوں نے پارٹی کو ایک سال کے اندر اندر ٹیک اوور کر لیا ہے، اور خود کو ہر معاملے میں آگے رکھ کر پارٹی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
پارٹی میں واپسی کی حمایت
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی کے متعدد اہم رہنماؤں نے شیر افضل مروت کی پارٹی میں واپسی کی حمایت کر دی ہے۔ ان رہنماؤں میں بیرسٹر گوہر علی، شہریار آفریدی، اسد قیصر، ڈاکٹر نثار جٹ سمیت دیگر شامل ہیں۔
پارٹی اجلاس میں کئی ارکان نے رائے دی کہ مروت کو دوبارہ تحریک انصاف میں شامل کیا جائے اور اس سلسلے میں بانی پی ٹی آئی کو باضابطہ سفارش پیش کی جائے۔ تاہم، کچھ ارکان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ شیر افضل مروت کو دوبارہ شامل کرنے سے پہلے انہیں پارٹی قیادت کے خلاف بیان بازی سے روکنے کی ضمانت کون دے گا۔
شیر افضل مروت کا مؤقف
پارٹی ارکان کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی اور پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر ان کے خلاف بلاجواز الزامات یا بیانات نہ دیے جائیں تو وہ بھی مستقبل میں مزاحمتی بیانات سے گریز کریں گے۔





