شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ برفانی پہاڑوں سے اترتے پانی نے دریاؤں میں طغیانی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں دریائے ہنزہ میں سیلابی کیفیت نے تباہی مچا دی۔ شاہراہِ قراقرم کا ایک اہم حصہ مورخون اور گرچہ کے مقام پر دریا برد ہو گیا، جس سے پاکستان اور چین کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (آج نیوز)کے مطابق سیلابی صورتِ حال کے باعث کئی دیہات بیرونی دنیا سے کٹ گئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں سیاح متاثرہ علاقوں میں محصور ہو چکے ہیں۔ چترال کی بین الصوبائی شاہراہ گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہے، جبکہ گلگت-شندور روڈ بھی بارہ دن سے سیلاب کی نذر ہے۔
بالائی غذر میں سڑکوں کی بندش سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ مقامی آبادی اور سیاح دونوں امداد کے منتظر ہیں، مگر مسلسل بارشوں اور ٹرانسپورٹ بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ادھر تربیلا ڈیم پانی سے مکمل بھر چکا ہے، جس کے اسپل ویز کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے صوابی، ہری پور اور نوشہرہ کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ پنجاب میں دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں بھی سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔
لیاقت پور میں دریائے چناب کے کنارے شدید کٹاؤ کے باعث سیکڑوں گھر پانی کی نذر ہو چکے ہیں۔ دریائے سندھ میں سطح بلند ہونے سے تونسہ کے کچے کے علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جہاں متاثرہ افراد کھلے آسمان تلے بے سروسامانی کی حالت میں موجود ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز کے غیر معمولی پگھلاؤ نے شمال سے جنوب تک ایک خطرناک سیلابی زنجیر قائم کر دی ہے۔ اگر موسم کی شدت برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں اس کا دائرہ مزید وسیع اور مہلک ہو سکتا ہے۔





