وزیراعلی خیبرپختونخواکاضلع کرم کے عمائدین کے ساتھ جرگہ،مشران کا پا ک افغان تجارتی راستے کھولنے کا مطالبہ

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں امن و امان سے متعلق علاقائی مشاورتی جرگوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا۔

اس سلسلے کا چوتھا اور آخری مشاورتی جرگہ آج وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ضلع کرم اپر، سنٹرل اور لوئر سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور متعلقہ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جرگے میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، متعلقہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

جرگے میں شریک قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں نے امن و امان کے قیام کے لیے جرگوں کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

شرکاء نے کرم کے دیرینہ مسائل کو پُرامن انداز میں حل کرنے، علاقے کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کے اعلان، اور مشکل حالات میں ہیلی کاپٹر سروس کی فراہمی پر صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی کاوشوں سے اس وقت کرم میں امن بحال ہو چکا ہے، جسے قائم رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔

جرگے میں اہل سنت اور اہل تشیع نمائندگان نے مکمل اتفاق رائے سے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

عمائدین کا کہنا تھا کہ امن ہماری بنیادی ضرورت ہے، اور اسی کی بنیاد پر ترقی ممکن ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں اور امن کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جرگے میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ مسئلے کے دیرپا اور مؤثر حل کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، سیکیورٹی اداروں اور مقامی مشران پر مشتمل ایک بااختیار جرگہ تشکیل دیا جائے، جو افغانستان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے، کیونکہ کرم کا امن براہِ راست سرحد پار صورت حال سے جڑا ہوا ہے۔

مزید یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ علاقے کے عوام کو روزگار کی فراہمی کے لیے افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولے جائیں، تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور عوام کو بہتر روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

Scroll to Top