امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو واشنگٹن میں نہ صرف ایک مرکزی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ ان کا حالیہ دوسرا دورۂ امریکا، اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو ماہ کے اندر دو بار آرمی چیف کا امریکا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا ہوئی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی فوجی سربراہ کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا تھا جو پاکستان کی عسکری قیادت کو امریکا میں حاصل اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان کے فیصلہ کن معاملات میں حتمی اختیار حاصل ہے چاہے وہ خارجہ پالیسی ہو معیشت ہو یا قومی سلامتی سے جڑے دیگر حساس امورہوں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سابق امریکی صدر کے کردار کو سراہا، تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس بیانیے کو ماننے پر آمادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حالیہ بھارتی جارحیت نے خطے کو خطرناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، فیلڈ مارشل
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت کی حالیہ جارحانہ روش نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ جنگ کے قریب لا کھڑا کیا ہے، پاکستان نے سفارتی محاذ پر موثر انداز میں اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔





