وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کے مقامی بینکوں سے گندم خریداری کے لیے لیے گئے قرض کی ادائیگی کے دعوے پر شدید ردعمل کا اطہار کیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا ہے کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ملک کے سب سے امیر صوبے کو گندم جیسی بنیادی ضرورت بھی ادھار خریدنی پڑتی ہے۔
صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی اس مالیاتی پالیسی نے نہ صرف صوبے کے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے بلکہ ملک کی فوڈ سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے گزشتہ سال گندم خریداری کے لیے خزانے سے رقم فراہم کی اور صوبے کا مقامی قرضہ اس وقت صفر ہے، یہ فرق دونوں صوبوں کی معاشی نظم و نسق کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور اچھے بچے ہیں، اسلام آباد سے جو ٹاسک دیا جاتا ہے پورا کرتے ہیں، فیصل کریم کنڈی
مزمل اسلم نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر دانشمندانہ فیصلے معیشت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں اور کسان برادری سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔





