وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا‘ مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی کی نئی تہلکہ خیز کتاب شائع ہوگئی

وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا‘ مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی کی نئی تہلکہ خیز کتاب شائع ہوگئی

پاکستان کے سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی اور بین الاقوامی امور کے ماہر احمد حسن العربی کی مشترکہ تصنیف’The War That Changed Everything‘ (وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا) شائع ہو گئی ہے۔ کتاب نے جنوبی ایشیا اور عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

تحقیقاتی کتاب میں 2025 کے متنازع پہلگام واقعے کے پیچھے چھپائی گئی سچائی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

یہ کتاب بھارتی حکومت کے اُس سرکاری مؤقف کو براہ راست چیلنج کرتی ہے جس میں مودی سرکار نے پہلگام میں ہونے والے ’فالس فلیگ‘ کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی کی تحقیق سے سامنے آنے والا بیانیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعہ دراصل ایک گہری سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد بھارت میں قوم پرستی کو ہوا دینا، فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا اور اندرونی اختلاف رائے کو دبانا تھا۔

کتاب میں مصنفین نے 2 دہائیوں پر محیط فیلڈ رپورٹنگ، انٹیلی جنس تجزیوں اور جغرافیائی تحقیق کی بنیاد پر جو شواہد پیش کیے ہیں ان میں لیک شدہ خفیہ دستاویزات، تصدیق شدہ آڈیو ریکارڈنگز، سیٹلائٹ تصاویر، مالیاتی لین دین کے ثبوت اور ڈرون فرانزکس شامل ہیں۔

مرتضیٰ سولنگی نے کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر کہا کہ پہلگام کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف عسکری تناؤ نہیں تھا بلکہ ایک معلوماتی جنگ تھی جس کا مقصد سچ کو دبا کر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا، ہمارا مقصد صرف مؤقف کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اصل تاریخ کو واپس لانا ہے۔

احمد حسن العربی نے کہاکہ یہ مسئلہ صرف جنوبی ایشیا کا نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے، جب آمرانہ حکومتیں مذہب، قوم پرستی اور جھوٹی معلومات کو ہتھیار بنا کر عوام کی رائے پر اثر انداز ہوتی ہیں تو وہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہیں۔
کتاب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’پہلگام‘ واقعہ ایک ایسے دور کا آغاز تھا جس میں سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر جان بوجھ کر مٹا دی گئی اور جدید دور کی جنگ میڈیا اور معلومات کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ مصنفین نے بین الاقوامی برادری اور آزاد صحافیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خطرناک رجحان کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

“The War That Changed Everything” صحافت، آزادیِ اظہار اور سچ کی بقا کے لیے ایک اہم دستاویز قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کتاب اب دنیا بھر میں کتاب فروشوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔

بُنیانُ المَرسُوس،بھارتی جارحیت پر پاکستان کا متوازن، مؤثر اور فیصلہ کن جواب
چھ ،سات مئی کی شب بھارت کی میزائل حملوں کے فوری بعد ڈی جی ایم اوز (DGMOs) کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ اہم ترین حیثیت اختیار کر گیا۔ اس نے تناؤ کے تسلسل اور سمت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

گھر کی چپ سیز کی حکمت عملی
بھارتی DGMO نے اگلے صبح رسمی گفتگو کی درخواست کی، مگر پاکستان نے واضح کیا کہ “مؤثر اور متوازن ردعمل کے بعد ہی گفتگو ممکن ہے”۔ اگلے 48 گھنٹوں کا انفعال دراصل حکمتِ عملی کا مظہر تھا، جذباتی ردعمل نہیں۔

بھارتی میڈیا حکمت عملی اور پاکستان کا موثر جواب
پاک ہندوستانی خاموشی کی شدت کو بھانپتے ہوئے بھارت نے آٹھ اور نو مئی کو میڈیا کے ذریعے جعلی فریب آرائی شروع کی، عالمی مشاہدین کو گمراہ کرنے اور اپنی بڑھک بازی چھپانے کی کوشش کی۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اور نشانا چننے کا طریقہ
9 مئی کی رات 11 بجے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی، دفاع و اطلاعات کے وزراء اور سینئر فوجی قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں متوازن ہدف کا تعین اور شہری آبادی کو تحفظ دینے والی حکمتِ عملی زیر غور آئی۔ اگلے ہی دن DG ISPR نے 3:30 بجے ایک متوازن پیغام کے ساتھ عوام کو پاکستان کے ردعمل کی نشاندہی کی۔

آپریشن بُنیانُ المَرسُوس کا آغاز
10 مئی کو فوجی چینلز کے ذریعے بھارت کو ایک واضح و سخت پیغام دیا گیا کہ اگر کراچی پر حملہ کیا گیا، تو جوابی وار بہت سنگین اور ناقابل برداشت ہوگا۔ اس واضح و مستحکم پیغام نے بھارت کو اس محاذ پر قدم رکھنے سے باز رکھا۔

تقریباً دوپہر 2:30 بجے، بھارتی DGMO نے خود ہاٹ لائن دوبارہ کھول کر خاموشی سے پاکستان کی حکمتِ عملی کا اعتراف کیا۔ پاکستانی موقف نے عالمی برادری میں بھی بھارت کی یک طرفہ جارحیت اور بے بنیاد الزامات کے تاثر کو کمزور کیا۔ بھارتی وزیر خارجہ جی شنکر کی جانب سے “پہلے اطلاع دی گئی” کا دعویٰ بھی محض غلط تاثر تھا—اصل بات یہ ہے کہ پہلی پیشگی اطلاع نہیں، بلکہ حملے کے بعد رابطہ ہوا۔

پاکستان کی فضائیہ کی تاریخی کارروائی ’’آپریشن بُنیانُ المَرسُوس‘‘کا نام دراصل ایک لمحے میں طے کیا گیا۔
اس وقت ائیر چیف نے آرمی چیف کو پاک فضائیہ کے طیاروں کی تصاویر دکھائیں، جس پر آرمی چیف نے اسے ’’آہنی دیوار‘‘ سے تشبیہ دی یہ تصور آپریشن کے نام کا پس منظر بنا۔ بعد ازاں، وزیرِ اعظم کو یہ نام پیش کیا گیا اور انہوں نے فوراً تائید کر دی۔
یہ آپریشن 6 اور 7 مئی کی شب انجام دیا گیا، جب پاکستان نے بھارت کے متعدد طیارے گراے اور ساتھ ہی طاقتور سائبر حملے بھی کئے۔ اتنے شدید کہ بھارتی طیارے مکمل اندھیرے میں اتریں، اور تمام بھارتی ایئر بیسز سے بجلی غائب ہو گئی۔

پاکستان نے بھارت کے 4411 سے زائد حساس سائبر انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا اور تباہ کیا۔22 مئی سے پہلے ہی پاکستان کو ان حملوں کی پوزیشن کا اندازہ ہو چکا تھا۔طریقہ عمل اس قدر تیز تھا کہ براہِ راست انٹروپشن کے بعد 7 مئی کی رات ہی بھارتی ڈی جی ایم او نے بات چیت کا عمل شروع کردیالیکن پاکستان نے جواب سے پہلے عدم گفتگو کا موقف اپنایا۔

پانچ مئی کے بعد پاکستان نے ہر مسلسل فضائی یا زمینی نقصان کا تین گھنٹے میں ازالہ کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔بھارتی فروخت شدہ ڈرونز کو سافٹ کل ٹیکنالوجی سے پکڑ کر ریورس انجینئرنگ کا آغاز کیا گیا۔

پاکستان نے ادم پور اور بھوج میں تعینات دو بھارتی ایس-400 سسٹم اور ان کے “بورڈ ریڈار” کو CM-400 میزائل سے تباہ کیا۔

اک فضائیہ نے بھیولاری اور سری نگر ایئر بیس پر حملوں کے بعد بھارت کو جنگ بندی کی درخواست پر آمادہ کیا۔بھارتی کیریئر وکرم آدتیہ ٹیکنیکل خرابی کا شکار رہا اور سمندر میں اترنے میں ناکام ہوا۔بھارت نے ستمبر یا اکتوبر 2025 میں دوبارہ تصادم کا اشارہ دیا، اور 2027 میں ممکنہ بڑی جنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔جے ایف-17 بلاک 3 نے بھارت کے ایس-400 کو تباہ کر کے تاریخ رقم کی۔

Scroll to Top