پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مجوزہ گرینڈ اپوزیشن الائنس میں مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ اس اتحاد کا حصہ نہیں بنے۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی قسم کا عسکری آپریشن نہ کیا جائے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت بھی انہی کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی ہے کہ پارٹی بانی عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے استعفے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، بلکہ صرف صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے عمران خان کے اہل خانہ سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بانی نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ تحریک کی قیادت جیل میں رہتے ہوئے ہی مؤثر انداز میں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مجوزہ گرینڈ اپوزیشن الائنس میں مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ اس اتحاد کا حصہ نہیں بنے۔
یہ بھی پڑھیں : ربیع الاول کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی پیش گوئی سامنے آ گئی
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مستعفی ہونے کا کہا ہے، جس کی بیرسٹر گوہر نے تردید کر دی ہے۔





