باجوڑ (محمد عباس): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے باجوڑ کا دورہ کیا جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
دورے کے دوران انہوں نے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور مقامی عمائدین، کارکنان اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے جبراڑیی میں حالیہ واقعے میں آسمانی بجلی گرنے اور سیکیورٹی آپریشن میں شہید ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
دورے کے دوران جاری بدامنی، فوجی آپریشنز، افغان پالیسی اور علاقائی امن و امان سے متعلق اہم گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہر مشکل وقت میں باجوڑ کے عوام کا ساتھ دیا ہے اور ہم آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے، بلکہ ان سے مسائل مزید بڑھتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے، جو کہ ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا پاکستان کو افغانستان کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔ دونوں ممالک کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور کرنا ضروری ہے۔ افغان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
امریکہ سے متعلق جماعت اسلامی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا امریکہ کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ ہم امریکہ کی محبت میں پہلے ہی بہت کچھ گنوا چکے ہیں، اب مزید کچھ کھونے کے قابل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حکمرانوں کی ترجیح امن نہیں، ذاتی مفادات ہیں، حافظ نعیم الرحمن
ملک کے اندر سیکیورٹی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا، ہم ملک کے کسی بھی حصے میں فوجی آپریشن کے حامی نہیں ہیں۔
پاکستانی قوم کو اپنی فوج سے یہ شکوہ ہے کہ وہ اپنے ہی عوام پر آپریشن کرتی ہے، حالانکہ پاک بھارت جنگ کے بعد فوج کے وقار میں اضافہ ہوا۔
دورے کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمن نے امید ظاہر کی کہ ریاستی ادارے اور حکومت عوامی مسائل کے حل اور علاقائی امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔





