اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آفات کا ڈھیر بن چکا ہے، ہر سال مون سون کے موسم میں ہم صرف سیلاب کی بات کرتے رہ جاتے ہیں، مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اتنے اہم موضوع پر ایوان بالا میں بحث جاری ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ تین گھنٹے سے اجلاس چل رہا ہے اور ایک بھی وفاقی وزیر ہال میں موجود نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس سینیٹ کی کیا حیثیت ہے جب حکومتی نمائندے ہی اس میں موجود نہیں ہوتے؟
سربراہ اے این پی نے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ان اداروں کا کام صرف وزیراعظم کو بریفنگ دینا رہ گیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں : مشکل کی گھڑی میں پاک فضائیہ پیش پیش، 48 ٹن امدادی سامان پشاور پہنچا دیا
اگر ہم سالہا سال سیلابوں سے خود کو نہیں بچا سکے تو کلاؤڈ برسٹ جیسی نئی آفات کا سامنا عوام کیسے کریں گے؟
ایمل ولی خان نے زور دیا کہ جب قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہو تو حکمرانوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مؤثر اور فعال اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ ہر سال کی تباہی کو روکا جا سکے۔





