پشاور: خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کےلیے اہم فیصلے کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 5 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ڈی ایم اے کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کو 15 ہزار روپے “فوڈ اسٹامپ” اسکیم کے تحت فراہم کیے جائیں گے، جس کے لیے ادارے کو ابتدائی طور پر ایک ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔
اجلاس میں پولیس شہداء اور زخمی اہلکاروں کے لیے 18 کروڑ 3 لاکھ روپے کے خصوصی پیکیج کی منظوری دی گئی، جبکہ مہمند میں ایئر ریلیف آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے عملے کے لیے بھی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔
ربیع الاول کے مبارک مہینے میں سیرت کانفرنسز کے انعقاد کے لیے 6 کروڑ 23 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کو ریلیز پالیسی سے استثنیٰ دینے اور ایس اے پی سسٹم تک مکمل رسائی کی منظوری دیتے ہوئے سابق ایم پی اے شوکت یوسفزئی کے علاج کے لیے 2 کروڑ روپے کی مالی امداد کا فیصلہ کیا۔
باجوڑ کی تحصیل برنگ میں ریسکیو 1122 اسٹیشن کے قیام کے لیے دو کنال اراضی کی منتقلی کی منظوری بھی دی گئی۔
اسی طرح ضلع دیر لوئر میں کمبر بائی پاس روڈ کی تعمیر کے لیے 1380 ملین روپے کے منصوبے کو منظوری دی گئی، جب کہ رائٹ ٹو پبلک سروس ایکٹ 2014 میں ترامیم اور رائٹ ٹو پبلک سروس کمیشن میں چیف کمشنر کی تقرری کی منظوری بھی کابینہ ایجنڈے کا حصہ رہی۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ کے لیے دو اراکین کی نامزدگی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اسکیموں اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 20 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فنڈز جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے معذرت نامے کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا
صوبائی کابینہ نے مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے انٹرا سیکٹورل ری اپروپریشن کی بھی منظوری دی، جس سے صوبے کے ترقیاتی ڈھانچے کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔





