صابحہ شیخ
ڈیرہ اسماعیل خان: تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران شہر کے وسط میں واقع نادرا کی عمارت منہدم کیے جانے کے بعد اسے میلوں دور نئی جگہ منتقل کر دیا گیاجس کے باعث شہریوں کو شناختی کارڈ اور دیگر اہم دستاویزات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سابقہ نادرا دفتر دریائے روڈ پر محمود آئی اسپتال کے قریب واقع تھا تاہم اب اسے بنوں روڈ پر چڑیا گھر سے بھی آگے منتقل کر دیا گیا ہے۔
دفتر کی یہ نئی لوکیشن شہر کے عام شہریوں، خصوصاً بزرگوں، خواتین اور دور دراز سے آنے والے افراد کے لیے سخت پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پہلے نادرا دفتر کے اوقات صبح 9 بجے سے رات 8 بجے تک تھے، جو عوام کے لیے کافی سہولت بخش تھے، لیکن نئے دفتر کے اوقات کار کو محدود کرتے ہوئے صرف صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک کر دیا گیا ہے۔
مختصر وقت اور رش کے باعث روزانہ درجنوں شہری بغیر کام نمٹائے واپس جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نئی عمارت میں نہ تو مناسب بیٹھنے کا انتظام ہے، نہ ہی بجلی، ٹھنڈے پانی یا سایہ دار جگہ جیسی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ شدید گرمی میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رہنا عام شہری کے لیے اذیت ناک بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تعلیمی اداروں کی ہفتہ بھر کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن ، حقیقت سامنے آگئی
دفتر کی نئی لوکیشن پر سیکیورٹی انتظامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیںجس پر مقامی افراد نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر سے دور دفتر منتقل کرنا نہ صرف عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ حفاظتی لحاظ سے بھی ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔





