بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی پشت پناہی کے مکمل اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی پشت پناہی کے مکمل اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جنہیں مناسب وقت پر عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے گا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ  پاکستان اپنی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون پر ہمیشہ آمادہ ہے اور دنیا پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے، پاکستان عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے دورہ برطانیہ کے دوران برطانوی نائب وزیراعظم سے اہم ملاقات کی جبکہ صومالیہ، آذربائیجان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے بھی ہوئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور پاکستان میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے تعزیت کی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 18 اگست کو بیجنگ میں پاک چین آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ مذاکرات ہوئے جن میں پاکستانی وفد کی قیادت طاہر اندرابی نے کی، دونوں ممالک کے درمیان اس حساس موضوع پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی یکطرفہ معطلی کو غیر مؤثر قرار دیا گیا، یہ فیصلہ دونوں ممالک کے لیے قابلِ عمل ہے اور اس کی اہمیت اس تناظر میں بڑھ جاتی ہے کہ بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔

پاکستانی سفارت کاروں کو بھارت میں ہراساں کرنے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سفارت کاروں کے باعزت اور محفوظ ماحول پر یقین رکھتا ہے اور بھارت میں پاکستانی عملے کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سرحد پار دہشت گرد حملے اور افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے، پاکستان اس مسئلے پر کئی بار افغان حکام سے بات کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، دہشت گردی کے خلاف تعاون مضبوط بنانے کا عزم

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے جامع مذاکرات پر آمادہ ہے بھارت دہشت گردی کی بات کرتا ہے ہم بھی بات کے لیے تیار ہیں مگر بات یک نکاتی نہیں، جامع ہونی چاہیے۔

Scroll to Top