وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور امیگریشن کے عمل کو جدید، مؤثر اور تیز تر بنانے کے لیے ایف آئی اے کی جانب سے تیار کردہ اے آئی پر مبنی نئی ایپلیکیشن کے اجرا کا اعلان کر دیا، یہ پائلٹ منصوبہ ابتدائی طور پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نافذ کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز اور زونل ڈائریکٹرز شریک ہوئے، جبکہ بعض افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں ایف آئی اے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے متعلق سابقہ فیصلوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے وزیر داخلہ کو بریفنگ دیتےہوئے کہا کہ نئی اے آئی بیسڈ ایپ امیگریشن کے طریقہ کار کو خودکار بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط کرے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایپ سے نہ صرف مسافروں کو طویل قطاروں سے نجات ملے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مؤثر انداز میں انسانی سمگلنگ جیسے سنگین جرائم کا سدباب کر سکیں گے۔
وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کا آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر درکار فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ساتھ ہی ایف آئی اے ہیڈکوارٹر کی عمارت کی فوری تزئین و آرائش اور ایف آئی اے اکیڈمی کے لیے سی ڈی اے کی جانب سے الاٹ شدہ نئی زمین کی فوری حوالگی کے احکامات بھی جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جہاز گرنے کی ویڈیوز کی خفیہ کہانی محسن نقوی نے بے نقاب کر دی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی، لیکن نتائج دینا افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وزیر داخلہ کی جانب سے دی گئی یہ ہدایات ایف آئی اے کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں جس کا مقصد نہ صرف امیگریشن نظام کو مستحکم بنانا ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کی بیخ کنی بھی ہے۔





