افغانستان میں خوشحال اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افغان شہری پاکستان میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور، وجہ سامنے آگئی

افغانستان میں خوشحال اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افغان شہری پاکستان میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور، وجہ سامنے آگئی

کبھی افغانستان میں خوشحال اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز یہ افغان شہری آج پاکستان میں کھلے آسمان تلے بے سروسامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہزاروں افغان باشندے کسی تیسرے ملک میں منتقل ہونے کی امید لے کر پاکستان آئے، لیکن عالمی پالیسیوں کی تبدیلی نے ان کے خواب چُور کر دیے۔

نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز )کے مطابق اگست 2021 کے بعد سے ہزاروں افغان شہری امریکا، کینیڈا، یا یورپی ممالک منتقل ہونے کی آس میں پاکستان پہنچے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان ممالک نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی، اور یہ افغان خاندان وہیں کے وہیں رک گئے۔

اسلام آباد کے ارجنٹائن پارک میں خیموں اور چادروں تلے تقریباً 300 افغان خاندان آج بھی اس امید پر زندگی گزار رہے ہیں کہ کبھی کوئی دروازہ ان پر کھلے گا۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سابق افغان حکومتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جیسے پولیس افسران، سرکاری ملازمین، اور دیگر پیشہ ور افرادہے۔

ایک ماہ کے دانیال کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا وطن کون سا ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوا، مگر اس کی پہچان، اس کا مستقبل اور اس کی شہریت آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس کی ماں 24 سالہ سمیعہ، جو 2022 میں بغلان سے ہجرت کر کے پاکستان آئیں، کہتی ہیںہم نے جان بچانے کے لیے افغانستان چھوڑا، مگر اب یہاں بھی کوئی جائے پناہ نہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں کسی تیسرے ملک میں مستقل رہائش دی جائے، کیونکہ نہ ہم وہاں جا سکتے ہیں اور نہ یہاں رہ سکتے ہیں۔

پری نوری اور شہناز علی زادے جیسے درجنوں افراد، جو برسوں افغان پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں، آج اپنی شناخت، اپنے ماضی اور اپنی مہارتوں کے باوجود بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔پری نوری، دو بچیوں کی ماں، کہتی ہیں’’طالبان کے آنے سے پہلے ہماری زندگی مستحکم تھی، آمدنی تھی، نوکری تھی۔ مگر ایک دن میں سب کچھ ختم ہوگیا۔’’شہناز علی زادے، جو 14 سال افغان پولیس میں رہیں، نے بتایا’’ہم نے دو سال افغانستان میں برداشت کیا، لیکن آخرکار ظلم اور دھمکیوں سے تنگ آ کر پاکستان آنا پڑا۔‘‘

یہ تمام افراد نہ مکمل طور پر مہاجر ہیں، نہ مہمان، نہ ہی شہری۔ ان کے کاغذات ادھورے ہیں، ان کا مستقبل غیریقینی ہے، اور ان کے خواب مؤخر ہوتے جا رہے ہیں۔عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور متعلقہ ممالک کے لیے یہ ایک آزمائش ہے کیا وہ ان بے وطن انسانوں کو محض’’پناہ گزین اعداد و شمار‘‘ سمجھیں گے، یا ان کے لیے کوئی پائیدار حل نکالا جائے گا؟

Scroll to Top