پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار 13 سال بعد بنگلادیش کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ سطحی حکومتی نمائندے بن گئے ہیں۔
اسحاق ڈار دو روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکا پہنچے، جہاں ان کا استقبال بنگلادیشی حکام، پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور دیگر اعلیٰ سفارتی شخصیات نے کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ دورہ بنگلادیشی حکومت کی باضابطہ دعوت پر ہو رہا ہے۔ دورے کے دوران وہ بنگلادیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، اور خارجہ امور کے ایڈوائزر محمد توحید حسین سمیت دیگر حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
اس دورے کی خاص بات یہ ہے کہ بنگلادیش نے 1971 کے بعد پہلی بار پاکستانی سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کی شرط ختم کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 5 سالہ باہمی ویزا استثنیٰ معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت اب سفارتی اور سرکاری اہلکار ویزا کے بغیر ایک دوسرے کے ممالک کا سفر کر سکیں گے۔
بنگلادیشی حکومت کے ترجمان شفیق الاسلام کے مطابق اس نوعیت کے معاہدے بنگلادیش کے 31 دیگر ممالک کے ساتھ بھی موجود ہیں، اور اب پاکستان کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، تجارت، تعلیم اور عوامی رابطوں کے فروغ کی جانب مثبت قدم ہے۔ اس سے نہ صرف دو طرفہ سفارتی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔





