اب دباؤ نہیں، برابری پر بات ہو گی! بھارت کا پرانا بیانیہ دفن ہو چکا، اسحاق ڈار

وزیراعظم اسحاق ڈار نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا ’’نیو نارمل‘‘ کا بیانیہ اب دفن ہو چکا ہے، اور اگر مستقبل میں بھارت سے مذاکرات ہونگے تو وہ صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہونگے۔

چین روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن اس کی قیمت قومی خودمختاری یا عزت پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’’اگر بھارت مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں، لیکن برابری کی سطح پر۔ اگر نہیں کرنا چاہتا تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم کسی ملک سے مذاکرات کے لیے منتیں نہیں کر رہے۔‘‘

افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ کابل حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ ’’ہماری صرف اتنی سی درخواست ہے کہ یا تو افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کرے، یا کم از کم اسے ہماری سرحدوں سے دور رکھے۔‘‘

افغان حکومت کی جانب سے دیے گئے احتجاجی مراسلے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس کی وجوہات کا جائزہ لیں گے، لیکن پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘‘

اس موقع پر نائب وزیراعظم نے پاکستان اور آرمینیا کے ممکنہ تعلقات کا بھی اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب آذربائیجان اور آرمینیا کے باہمی معاملات درست ہو چکے ہیں تو پاکستان کے لیے بھی اس میں رکاوٹ کی کوئی وجہ باقی نہیں۔‘‘

اسحاق ڈار کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر نئے انداز میں غور کر رہا ہے۔

Scroll to Top