سرکاری ملازم پر مبینہ تشدد کے کیس میں صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی فرحان غنی اور دیگر دو ملزمان کو پولیس نے رہا کر دیا ہے۔ رہائی مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے بعد عمل میں آئی۔
نجی ٹی وی چینل (آج نیوز)کے مطابق فرحان غنی کے وکیل وقار عالم عباسی ایڈووکیٹ نے تینوں ملزمان کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مقدمے کے مدعی حافظ سہیل احمد جدون نے کیس سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے تحریری طور پر درخواست تفتیشی افسر کے حوالے کر دی، جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کے تحت ملزمان کو رہا کر دیا۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ کراچی کے فیروزآباد تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس میں پیپلزپارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی اور چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
مقدمے کے مطابق، مدعی حافظ سہیل جدون سرکاری منصوبے کے تحت آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے کام کی نگرانی کر رہے تھے کہ اس دوران 20 سے 25 افراد موقع پر پہنچے اور ان پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کافی ردعمل دیکھنے میں آیا۔
پولیس نے واقعے کے بعد مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا تھا، جس پر انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کا 30 اگست تک جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا تھا۔
تاہم، اب مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے بعد فرحان غنی اور دیگر ملزمان کو قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے تھانے سے رہا کر دیا گیا ہے۔





