پنجاب میں سیلاب سے 33 اموات، اگلے 24 گھنٹوں میں خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے، پی ڈی ایم اے

پنجاب میں جاری تباہ کن سیلاب نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ محکمۂ قدرتی آفات (PDMA) کے مطابق، اب تک 33 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی نازک قرار دیے جا رہے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے سیلابی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دریائے راوی میں سیلابی ریلا ہیڈ بلوکی کے مقام پر پیک پر ہے، جو اگلے چند گھنٹوں میں خانیوال، اوکاڑہ اور آس پاس کے درجنوں دیہات کو متاثر کر سکتا ہے۔

متاثرہ علاقے اور بہاؤ کی تفصیلات :
اوکاڑہ، ساہیوال، کمالیہ، خانیوال اور کبیر والا کے علاقوں میں پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی متوقع ہے۔ستلج میں قصور کے مقام پر وقتی کمی واقع ہوئی ہے، لیکن ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی سطح بڑھ کر شام تک 1 لاکھ 75 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ہیڈ اسلام پر 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک جبکہ تریموں ہیڈ پر پانی میں مزید 1 لاکھ کیوسک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سیلابی ریلے کے زیر اثر اضلاع:
سیلابی ریلے سے بہاولنگر اور بہاولپور خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں جبکہ قصور، وہاڑی اور خانیوال کے دیہی علاقوں میں مزید بستیاں زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔

ریسکیو و ریلیف آپریشن:
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق،اب تک 7 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے مخصوص بیڑے تمام اضلاع میں روانہ کیے جا چکے ہیں۔پانی کا اسپیل آئندہ 5 سے 6 روز میں اُترنے کی توقع ہے، جس کے بعد ریسکیو کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔

بارشوں کی پیشگوئی:
محکمہ موسمیات کے مطابق، لاہور سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کا سلسلہ 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث سیلابی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی عوام سے اپیل:
عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں اور الرٹس پر عمل کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top