مردان (اخونزادہ فضل حق سے)گوجر گڑھی کی گلیاں جو کبھی لوہے کی کھڑکھڑاہٹ اور مشینوں کی گڑگڑاہٹ سے گونجتی تھیں، منی گوجرانوالاکے طور پر مردان و آس پاس کے علاقوں میں فخر کا مرکز تھیں
تفصیلات کے مطابق مردان کا تاریخی گوجر گڑھی بازار، جو کبھی ’’منی گوجرانوالا‘‘ کے طور پر مشہور تھا، آج زوال کے شدید مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ بازار خیبر پختونخوا کی چھوٹی صنعتوں کا مرکز تھا، جہاں زرعی اور گھریلو مشینری کی تیاری مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی اور ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی اسی سے جڑی تھی۔ لیکن اب وہ سنسان ہو چکا ہے، مشینیں خاموش ہیں اور چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، جبکہ کئی کاریگر روزگار کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔
گوجر گڑھی کی گلیاں کبھی لوہے کی کھڑکھڑاہٹ اور مشینوں کی گڑگڑاہٹ سے گونجتی تھیں۔ یہاں مختلف زرعی آلات جیسے درانتی، لنٹر ڈالنے والی مشینیں، تریشر، گیزر اور ٹریکٹر ٹرالی بڑی تعداد میں تیار ہوتے تھے، جو نہ صرف مردان بلکہ پشاور، چارسدہ، صوابی اور دیگر علاقوں میں بھی سپلائی ہوتے تھے۔ مقامی لوگ فخر سے کہتے تھے کہ ’’یہ ہمارا منی گوجرانوالا ہے۔‘‘
لیکن حالات نے پلٹا کھایا اور اب تقریباً 150 کارخانے بند ہو چکے ہیں جبکہ 1500 سے زائد مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ جو چند کارخانے باقی ہیں، وہ بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اکثر مالکان نے مزدوروں کو نکال کر گھر کے افراد سے معمولی کام چلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بھاری ٹیکسوں نے اس صنعت کی کمر توڑ دی ہے۔
کارخانہ دار حاجی فرمان نے بتایا’’کبھی میرے کارخانے میں 25 مزدور کام کرتے تھے، اب سب کو فارغ کرنا پڑا۔ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے اکثر کارخانہ دار چندہ اکٹھا کرتے ہیں۔ حکومت روز نئے ٹیکس لگا کر ہمارے بچوں کا نوالہ چھین رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ 2020 سے سرکاری ٹینڈرز بھی بند ہیں جس سے صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ’’ہم جو کبھی دوسروں کو روزگار دیتے تھے، اب خود مزدوری کی تلاش میں ہیں۔‘‘
نصرالدین، ایک اور صنعتکار، اپنی پریشان کن کہانی سناتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میرا بیلچوں کا کارخانہ مہنگائی کے باعث بند ہو گیا۔ اب میں پانچ بچوں کا باپ ہو کر دہاڑی پر مزدوری کر رہا ہوں۔ جو شخص کبھی روزگار دیتا تھا، آج خود روزگار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔‘‘
مزدوروں کی حالت بھی کم از کم نہیں۔ مجیب نامی کاریگر بتاتے ہیں کہ ’’کام ملنا مشکل ہے، اور جب آرڈر آتا بھی ہے تو بجلی کی بندش کے باعث کام مکمل ہونے میں مہینے لگ جاتے ہیں۔ اس تاخیر سے مالک بھی اور ہم مزدور بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔’’ ایک مزدور نے اپنی ادھوری مشین دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’تین ماہ گزرنے کے باوجود بجلی نہ ملنے کی وجہ سے یہ مشین زنگ آلود پڑی ہے۔‘‘
یہ داستان محض چند افراد کی نہیں بلکہ ایک پوری صنعت کی زوال کی ہے۔ اگر حکومت نے فوری توجہ نہ دی تو گوجر گڑھی بازار، جو کبھی مردان کی صنعتی پہچان تھا، ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقامی صنعت کو ریلیف دے، ٹیکسز میں کمی کرے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے اور سرکاری ٹینڈرز دوبارہ شروع کرے تو یہ صنعت دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہے۔ ورنہ ’’منی گوجرانوالا‘‘ کی یہ پہچان صرف یادوں اور کتابوں تک محدود رہ جائے گی۔
گوجر گڑھی بازار کی اجڑی ہوئی گلیاں آج ایک سوالیہ نشان بن چکی ہیں، جو ہزاروں خاندانوں کی بقا کی علامت ہے۔ اگر آج مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو کل اس علاقے کی خاموش مشینیں اور ٹھنڈے چولہے اس کی معاشی تاریخ پر ایک کالی لکیر بن جائیں گے۔





