بونیر سیلاب: اپنا گھر منصوبہ بیواؤں اور شہداء کے ورثاء کے لیے امید کی کرن

شیراز احمد شیرازی
بونیر:  بونیر میں جمعیت علمائے اسلام خیبرپختونخوا کے نائب امیر مفتی فضل غفور کی نگرانی میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ’اپنا گھر (خپل کور) منصوبہ‘ شروع کیا گیا ہے۔

جس کے تحت 60 مکانات، 5 مساجد، ایک مدرسہ اور سکھ برادری کے لیے شمشان گھاٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبے کا آغاز بیواؤں کے لیے گھروں کی تعمیر سے کیا گیا ہے، جس میں بٹئی درہ میں مرحوم صاحب زر کی بیوہ کے لیے سنگِ بنیاد رکھا گیا۔

منصوبے کے تحت اب تک چار گھر تین بیواؤں اور آٹھ شہداء کے چار وارثین کے نام منسوب کیے جا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں سیلاب سے متاثرہ افراد کی معاشی بحالی کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔

جن میں مفت رکشے فراہم کرنا، متاثرہ ٹیلروں کو نئی مشینیں دینا، اور 100 سے زائد ریڑھیاں بمعہ سامان تقسیم کرنا شامل ہیں تاکہ متاثرین دوبارہ کاروبار شروع کر سکیں۔

بونیر میں تباہ شدہ موبائل ریپئیرنگ دکانوں کے مالکان کے لیے بھی رابطہ نمبر فراہم کیا گیا ہے تاکہ ان کے کاروبار کی مفت بحالی یقینی بنائی جا سکے۔

مفتی فضل غفور نے کہا کہ یہ اقدامات متاثرہ خاندانوں کو خود کفیل بنانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

جمعیت علما اسلام کے ریلیف پروگرام کے تحت کل سے متاثرین کے کاروبار جیسے برگر اسٹال، کولڈ ڈرنک شاپ، جوس شاپ، بیف شاپ اور موچی کے شاپ دوبارہ شروع کیے جائیں گے، جس پر آنے والے اخراجات بھی پروگرام کی ذمہ داری ہے۔

یہ اقدامات سیلاب زدہ علاقوں میں زندگی کی بحالی اور خوشحالی کے لیے امید کی کرن ثابت ہو رہے ہیں۔

Scroll to Top