ماسکو: روسی سائنسدانوں نے طبی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کینسر کے خلاف دنیا کی پہلی ویکسین تیار کر لی ہے، جسے “اینٹرو مکس” کا نام دیا گیا ہے۔ ابتدائی طبی آزمائشوں کے دوران یہ ویکسین سو فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
اس انقلابی ویکسین کی تیاری روس کے دو معروف تحقیقی اداروں نیشنل میڈیکل ریسرچ ریڈیالوجیکل سینٹر اور اینگلٹ ہارڈ انسٹیٹیوٹ آف مالیکیولر بیالوجی کے باہمی اشتراک سے ممکن ہوئی۔ ویکسین mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو اس سے قبل عالمی سطح پر کورونا وائرس کے خلاف ویکسینز میں بھی استعمال ہو چکی ہے۔
تحقیق کے مطابق اینٹرو مکس براہ راست کینسر پیدا کرنے والے خلیات کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ صحت مند خلیات محفوظ رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی خصوصیت اسے روایتی طریقہ علاج جیسے کیموتھراپی اور ریڈی ایشن سے ممتاز بناتی ہے، کیونکہ اس میں ضمنی اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
یہ ویکسین انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہے، جو نہ صرف آسان بلکہ نسبتاً کم تکلیف دہ طریقہ کار ہے۔ ابتدائی تجربات میں کسی بھی مریض میں منفی ردعمل سامنے نہیں آیا، جو اس کی افادیت کو مزید مستند بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹرو مکس خاص طور پر پھیپھڑوں، چھاتی، بڑی آنت اور لبلبے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے افراد جو جینیاتی طور پر کینسر کے خطرے سے دوچار ہیں یا روایتی علاج برداشت نہیں کر سکتے، ان کے لیے یہ ویکسین امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔
ویکسین کو روس کی وزارت صحت کی منظوری کا انتظار ہے، جس کے بعد اسے ملک بھر میں عام دستیاب کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اینٹرو مکس کو باضابطہ اجازت مل گئی تو یہ عالمی سطح پر کینسر کے علاج کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔





