نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے شدید ہنگاموں کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کے معاون پرکاش سلول نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کے بعد ملک ایک نئی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔
نیپال میں نوجوان سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ پیر کے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 20 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 250 سے زائد زخمی ہوئے۔
مظاہرین نے پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
حالات کی کشیدگی کے باعث کٹھمنڈو اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا تاہم مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیپالی کانگریس کے مرکزی دفتر اور کئی معروف سیاسی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر دھاوا بولا۔
استعفیٰ دینے سے پہلے اولی نے تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس منعقد کیا اور کہا کہ تشدد کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور مسائل کا حل صرف پرامن مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں : میجر عدنان اسلم شہید کی نماز جنازہ چکلالہ راولپنڈی میں ادا کر دی گئی
دوسری جانب، نیپال سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کٹھمنڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فوری طور پر بند کر دیا ہے۔





