کالاباغ ڈیم سے متعلق ہمایون سیف اللہ کے بیان پر عوامی نیشنل پارٹی کا ردعمل

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے ہمایون سیف اللہ کے حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کسی صورت بھی ذخیرۂ آب کا منصوبہ نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کو ڈبونے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم صوبے کے لیے تباہ کن ہوگا اور اسے کبھی منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ جو شخص اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبے کے نام کی تبدیلی کی مخالفت کرتا رہا، وہی ہمایون سیف اللہ آج ڈیموں کے نام پر سیاست چمکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر واقعی آپ کو ڈیم بنانے کی فکر ہے تو حکومت سے یہ سوال کریں کہ بھاشا ڈیم، داسو ڈیم اور مہمند ڈیم پر کام کیوں نہیں ہو رہا؟ پختونخوا کے پانی کا اصل مسئلہ مہمند ڈیم کے ذریعے حل ہو سکتا ہے، مگر اس میں دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔

میاں افتخار نے کہا کہ آپ 2010 کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ذرا سوچیے اگر اُس وقت کالاباغ ڈیم موجود ہوتا تو پورا پختونخوا پانی میں ڈوب چکا ہوتا اور تباہی کئی گنا زیادہ ہوتی۔ ہم ڈیمز اور ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں، مگر ایسے کسی منصوبے کو کبھی قبول نہیں کریں گے جس کی قیمت پختونخوا کی تباہی اور پشتون عوام کی قربانی ہو۔

صوبائی صدر نے ہمایون سیف اللہ کے خاندانی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سلیم سیف اللہ، جاوید سیف اللہ اور انور سیف اللہ وزیر رہ چکے ہیں، کلثوم بی بی وزیر رہی ہیں اور عثمان سیف اللہ سینیٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ کے پورے خاندان نے لکی مروت کے عوام کے لیے کون سا نمایاں کارنامہ انجام دیا؟ دوسروں پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور لکی مروت کے عوام کو جواب دیں۔

میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سے ہمارے پانی پر پنجاب قابض رہا ہے۔ صوبے کے پاس نہری اور چھوٹے چینلز کا منظم نظام موجود نہیں ہے اور مرکزی حکومت کو بارہا درخواستوں کے باوجود اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔ 1991 کے واٹر ایکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوا کو محض 14 فیصد پانی ملا ہے اور نہری نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے صوبہ اپنے حصے کا پانی بھی مکمل طور پر استعمال نہیں کر پا رہا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں کالاباغ ڈیم صوبے کو فائدہ دینے کے بجائے مزید نقصان پہنچائے گا۔ نوشہرہ اور پشاور ویلی ڈیم کی تعمیر کی صورت میں وسیع علاقوں کے زیرِ آب آنے کے شدید خطرات ہیں اور یہ خدشات کئی سرکاری و تکنیکی رپورٹس میں واضح کیے گئے ہیں۔ بڑے ڈیم نہ صرف ناقابلِ عمل ہیں بلکہ خطرناک بھی ہیں۔

انہوں نے رائٹ بینک چشمہ کینال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو ولی خان نے اسمبلی میں اٹھایا تھا اور اس کے لیے بھرپور جدوجہد کی گئی۔ اس نہر کی گنجائش دس ہزار کیوسک پانی تھی اور اس کے لیے ماضی میں بھی آواز بلند کی گئی ہے اور آج بھی کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صحافی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوا دیا

میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایمل ولی خان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ کالاباغ ڈیم تینوں صوبوں کی تباہی کا باعث بنے گا اور یہ کبھی منظور نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان، ولی خان، اسفندیار ولی خان اور ایمل ولی خان سمیت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی ہے۔ نہ پہلے اسے قبول کیا، نہ اب مانتے ہیں اور نہ آئندہ کبھی منظور کریں گے اور جو کوئی بھی یہ منصوبہ لانے کی کوشش کرے گا، عوامی نیشنل پارٹی اس کے خلاف آخری دم تک جدوجہد کرے گی اور پشتونوں سمیت دیگر صوبوں کو تباہ کرنے والے اس منصوبے کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Scroll to Top